غنی خان کی نظم "قسمت" کا ترجمہ اور تشریح قسمت گہرا فلسفہ

 غنی خان کی نظم "قسمت" کا ترجمہ او


ر تشریح

​تمہید:

پشتو ادب کے بے باک اور فلسفی شاعر غنی خان بابا کی یہ نظم جس کا عنوان "قسمت" ہے، ان کے گہرے فکری شعور کی عکاسی کرتی ہے۔ اس نظم میں وہ انسانی بے بسی اور تقدیر کے لکھے پر سوال اٹھاتے ہوئے یہ واضح کرتے ہیں کہ انسان تو محض ایک مٹی کا پتلا ہے جسے قدرت جس روپ میں چاہے ڈھال دیتی ہے۔ ذیل میں اس نظم کے منتخب اشعار کا ترجمہ اور اس کی مخصوص پس منظر میں تشریح پیش ہے:

​بند نمبر 1

​پشتو:

​زہ نرمہ خٹہ یم لاس د کولال کښې

یا بہ د میو جام شم او یا کوزہ د جومات

​اردو ترجمہ:

میں تو ایک نرم مٹی ہوں جو کمہار (خالق) کے ہاتھوں میں ہے؛

یا تو میں شراب کا جام بن جاؤں گا یا پھر مسجد کا لوٹا (کوزہ)۔

​تشریح:

نظم "قسمت" کے اس ابتدائی شعر میں غنی خان انسانی زندگی کی بنیاد 'تقدیر' کو قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان کی اپنی کوئی مرضی نہیں، وہ اس مٹی کی طرح ہے جسے کمہار (خالق) چاہے تو رندوں کی محفل کی زینت (جام) بنا دے اور چاہے تو زاہدوں کی عبادت گاہ کا ظرف (کوزہ) بنا دے۔

​بند نمبر 2

​پشتو:

​یا ډیوگی د زیارت د میخانې فانوس

یا د ډیران تټیکرے سورے او مات

​اردو ترجمہ:

یا میں کسی زیارت کا ننھا سا دیا بنوں گا یا کسی مے خانے کا فانوس؛

یا پھر کسی کوڑے دان پر پڑا ہوا ایک سوراخ دار اور ٹوٹا ہوا ٹھیکرا۔

​تشریح:

شاعر قسمت کے مختلف رنگوں کا ذکر کر رہے ہیں کہ یہ مقدر ہی ہے جو کسی کو زیارت کی مقدس روشنی بناتا ہے اور کسی کو کچرے کے ڈھیر پر پڑا ٹوٹا ہوا بے وقعت ٹکڑا۔ یعنی عروج و زوال سب قسمت کے تابع ہیں۔

​بند نمبر 3

​پشتو:

​جواني مستي ژوندون د بل د لاسہ دي

زما نہ وس شتہ او نہ مي واک

​اردو ترجمہ:

یہ جوانی، مستی اور زندگی سب کسی اور کے ہاتھ میں ہے؛

نہ میرا اس پر کوئی زور ہے اور نہ ہی میرا کوئی اختیار۔

​تشریح:

غنی خان بابا یہاں اعتراف کرتے ہیں کہ انسان کے پاس جو کچھ بھی ہے—اس کی توانائی، اس کی خوشیاں اور خود اس کی زندگی—ان سب کی ڈور کسی اور (رب) کے ہاتھ میں ہے۔ انسان صرف ایک کٹھ پتلی ہے جو تقدیر کے اشاروں پر ناچتی ہے۔

​بند نمبر 4

​پشتو:

​شیخ پہ باغ کښې د یار د کورہ

کوم گل پلیت کړم او کوم پاک

​اردو ترجمہ:

اے شیخ! (ذرا یہ تو بتا کہ) یار (اللہ) کے باغ میں؛

میں کس پھول کو ناپاک کہوں اور کسے پاک قرار دوں؟

​تشریح:

یہاں وہ سماجی و مذہبی رویوں پر چوٹ کرتے ہیں کہ جب کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کا بنایا ہوا ہے اور ہر شے اس کی قسمت کے قلم سے لکھی گئی ہے، تو پھر کسی انسان کو یہ حق کیسے حاصل ہے کہ وہ خدا کی بنائی ہوئی کسی چیز کو حقیر یا ناپاک کہے۔

​بند نمبر 5

​پشتو:

​څنګه ملامتہ زہ پہ گناہ شم چې وس قسمت او تدبیر د بل دے

څنګه ستومان زہ پہ خندا شم خوب د بل او تعبیر د بل دے

​اردو ترجمہ:

میں گناہ پر ملامت کا مستحق کیسے ہوا جب کہ اختیار، قسمت اور تدبیر سب کسی اور کی ہے؟

میں تھکن کے باوجود بناوٹی ہنسی کیسے ہنسوں؟ جب خواب بھی کسی اور کا ہے اور اس کی تعبیر بھی کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔

​تشریح:

یہ اس نظم کا سب سے طاقتور حصہ ہے۔ غنی خان فلسفہ جبر و قدر پر بحث کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب تدبیر (Planning) ہی انسان کے بس میں نہیں، تو پھر اسے کسی غلطی یا گناہ کا ذمہ دار کیسے ٹھہرایا جا سکتا ہے؟ وہ زندگی کو ایک ایسا خواب قرار دیتے ہیں جس کا دیکھنے والا اور تعبیر دینے والا کوئی اور ہے۔

​بند نمبر 6

​پشتو:

​دا مې گناہ دہ مئین پہ گل یم نہ زہ د گل آقا نہ د نظر

نہ می د واک دي خماري سترگې نہ اوگی شونډې مدہوشہ سر

​اردو ترجمہ:

کیا یہ میرا گناہ ہے کہ میں پھول (خوبصورتی) کا عاشق ہوں؟ حالانکہ نہ میں اس پھول کا مالک ہوں اور نہ ہی اپنی نظر کا؛

نہ یہ خمار آلود آنکھیں میرے اختیار میں ہیں، نہ یہ پیاسے ہونٹ اور نہ ہی یہ مدہوش سر۔

​تشریح:

آخری اشعار میں وہ انسانی جبلت (Instinct) کا دفاع کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خوبصورتی کی طرف راغب ہونا انسان کی فطرت ہے جو اسے قسمت نے عطا کی ہے۔ جب آنکھوں میں چمک اور دل میں تڑپ پیدا کرنے والا وہ خود نہیں، تو پھر اس عشق کو گناہ کیوں سمجھا جائے؟


نتیجہ

​غنی خان کی اس نظم "قسمت" کا لب لباب یہ ہے کہ کائنات کا سارا نظام ایک ایسے طے شدہ منصوبے کے تحت چل رہا ہے جس میں انسان کا اپنا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ وہ درج ذیل اہم نکات پر نتیجہ اخذ کرتے ہیں:

​مکمل سپردگی: انسان کی حیثیت ایک کٹھ پتلی کی ہے، جس کی زندگی کی ڈور قدرت کے ہاتھ میں ہے۔ اسے مٹی کی مانند جس سانچے میں ڈھال دیا گیا، اسے اسی روپ میں جینا ہے۔

​جبر و قدر کا توازن: شاعر یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اگر انسان کے اعمال، اس کی جبلت اور اس کے حالات سب قسمت کے لکھے ہوئے ہیں، تو پھر جزا اور سزا کے پیمانے عام انسانی سوچ سے مختلف ہونے چاہئیں۔

​فطرت سے محبت: خوبصورتی سے پیار کرنا یا گناہ کی طرف مائل ہونا انسانی کمزوری نہیں بلکہ اس فطرت کا حصہ ہے جو اسے تخلیق کار نے عطا کی ہے۔

​شیخ پر طنز: وہ مذہبی تنگ نظری کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خدا کی بنائی ہوئی اس وسیع "میخانہ کائنات" میں ہر چیز پاک ہے، کیونکہ اس کا خالق پاک ہے۔

​مختصراً یہ کہ: غنی خان اس نظم میں ایک ایسے "مجبورِ محض" انسان کی وکالت کر رہے ہیں جو اپنی بے بسی کو پہچان چکا ہے اور اب اپنے ہر فعل کا ذمہ دار اپنی قسمت اور اپنے خالق کی مرضی کو قرار دیتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

غنی حان کی شاعری : فقر اور روحانی سر شاعی کی روشنی میں

غنی حان کی ذندگی : جدوجہد تعلیم شاعری اور فکری سفر

Ghani Khan's Life:Struggle, Eduction ,Poetry And Intellectual Journey