​"فلسفیِ فطرت کا آخری پڑاؤ: جہاں قلم، بندوق اور گلاب خاموش ہیں"

 

​"The Philosopher’s Sunset: Where Pen, Gun, and Rose Find Peace"

​"فلسفیِ فطرت کا آخری پڑاؤ: جہاں قلم، بندوق اور گلاب خاموش ہیں"

خان  عبدالغنی خان (1914-1996) پشتو ادب کے وہ درویش

صفت شاعر اور دانشور ہیں جن کی فکر کسی خاص طبقے، قوم یا صرف انسان تک محدود نہیں ہے۔ غنی خان کی شاعری کا خاصہ یہ ہے کہ وہ ہر دور کے انسان کے ساتھ ساتھ کائنات کی تمام مخلوقات کے ترجمان ہیں۔ ان کے ہاں چیونٹی کی بے بسی، پھول کی مسکراہٹ، کتے کی وفاداری اور چاند کی تنہائی سب ایک ہی کائناتی ربط میں پروئے ہوئے ہیں۔ وہ خالق کو اس کی تخلیق کے ہر رنگ میں دیکھتے ہیں، اسی لیے ان کا تخاطب جتنا انسان سے ہے، اتنا ہی فطرت کے دیگر مظاہر سے بھی ہے۔

​زیرِ نظر نظم میں بھی وہ زندگی اور موت کے جس فلسفے پر بات کر رہے ہیں، وہ دراصل اسی کائناتی سچائی کا حصہ ہے جہاں ہر مخلوق اپنے حصے کا وقت گزار کر ایک نئے روپ میں ڈھل جاتی ہے۔ ان کے نزدیک موت محض فنا نہیں بلکہ ارتقاء کا ایک مرحلہ ہے، بشرطیکہ اسے وقار کے ساتھ گزارا جائے۔

​بند اول: جراتِ رندانہ اور انسانی وقار

​پشتو شعر:

​مرگے دی راشی چہ ئی وس وی

گل بہ می لاس کښے وی او یا اس وی

یا بہ ٹوپک وی یا بہ قلم وی

ڈوب بہ خندا کښے د دنیا غم وی

​اردو ترجمہ:

موت کو جب بھی قدرت حاصل ہو وہ بے شک آجائے۔ مگر میری تمنا ہے کہ جب وہ آئے تو میرے ہاتھ میں یا تو حسن کی علامت "پھول" ہو یا میں مہم جوئی کی علامت "گھوڑے" پر سوار ہوں۔ میرے پاس یا تو دفاعِ حق کے لیے "بندوق" ہو یا شعور کی بیداری کے لیے "قلم" ہو۔ اور میری حالت یہ ہو کہ میں نے دنیا کے تمام دکھوں کو اپنی مسکراہٹ میں غرق کر دیا ہو۔

​تشریح:

غنی خان یہاں موت کو ایک چیلنج دے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر موت اٹل ہے تو پھر اسے بزدلی کی حالت میں نہیں آنا چاہیے۔ وہ زندگی کے چار بڑے مقصد (محبت، مہم جوئی، غیرت اور علم) سامنے رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جب روح جسم سے جدا ہو تو وہ کسی تعمیری یا بہادری کے کام میں مصروف ہو۔ یہ اس انسان کا پیغام ہے جو زندگی سے خوفزدہ نہیں بلکہ اسے فتح کر چکا ہے۔

​بند دوم: رضا اور قناعت

​پشتو شعر:

​چی سہ مو بخت وی دومرہ بہ بس وی

مرگے دی راشی چہ کلہ ئی وس وی

​اردو ترجمہ:

ہمارے مقدر میں جتنا لکھا جا چکا ہے، ہمارے لیے وہی کافی ہے۔ موت جب بھی اپنا اختیار پائے، اسے خوش آمدید۔

​تشریح:

یہاں غنی خان کا وہ فلسفہ نظر آتا ہے جہاں وہ تمام مخلوقات کے نصیب اور قدرت کے فیصلے پر سرِ تسلیم خم کرتے ہیں۔ وہ طویل عمر کی ہوس کے بجائے معیاری زندگی پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ شعر ایک بے نیاز انسان کی تصویر کشی کرتا ہے جو آنے والے لمحے سے خائف نہیں ہے۔

​بند سوم: وقت کا بے رحم بہاؤ

​پشتو شعر:

​ولے آخر سڑے ستڑے شی او دا ومنی چہ

چی جام کښے گوٹ گوٹ شراب کمیگی

سپرلے خلاصیگی گلاب کمیگی

​اردو ترجمہ:

آخر کیوں انسان تھکن کا شکار ہو کر یہ مان لیتا ہے کہ زندگی کے جام سے شراب کا ہر گھونٹ کم ہو رہا ہے؟ وہ دیکھتا ہے کہ بہار ختم ہو رہی ہے اور گلاب کے پھول مرجھا کر کم ہو رہے ہیں۔

​تشریح:

غنی خان نے یہاں "شراب" اور "گلاب" کے استعاروں سے زندگی کی بے ثباتی کو واضح کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جیسے کائنات کی ہر مخلوق (پھول، بہار، پرندے) وقت کے جبر کے سامنے بے بس ہے، ویسے ہی انسان بھی ہے۔ جب انسان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی طاقت اور جوانی ڈھل رہی ہے، تو وہ ذہنی طور پر ٹوٹ جاتا ہے۔ مگر غنی خان اس تھکن کے بجائے موت کو ایک فطری تبدیلی کے طور پر قبول کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

​بند چہارم: امید اور نیا سویرا

​پشتو شعر:

​رڼا د شمع کښے د سحر نور راغے

کور د بلبلو تہ نوم د باتور راغے

​اردو ترجمہ:

شمع کی بجھتی روشنی میں اب صبح کا نور جھلکنے لگا ہے۔ بلبلوں کے نرم و نازک آشیانے میں اب "باتور" (بہادر) کا تذکرہ ہونے لگا ہے۔

​تشریح:

یہ بند ارتقاء کی علامت ہے۔ غنی خان کہتے ہیں کہ جب ایک شمع بجھتی ہے تو صبح کا نور طلوع ہوتا ہے۔ اسی طرح جب پرانی اور کمزور سوچ ختم ہوتی ہے تو معاشرے میں "باتور" (بہادر اور جری) لوگ پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اشارہ ہے کہ موت صرف ایک فرد کا خاتمہ ہے، مگر کائنات کے وسیع تناظر میں یہ ایک نئے اور طاقتور عہد کا آغاز ہے۔

​بند پنجم: کیفیت کا بدلاؤ

​پشتو شعر:

​ستار کښے شرنگ ھغہ د ماښام نشتہ دے

سرور پہ سترگو کښے د حیام نشتہ دے

​اردو ترجمہ:

ستار کے تاروں میں اب وہ شام والی دلکش جھنکار باقی نہیں رہی۔ اور آنکھوں میں اب (عمرِ) خیام جیسی وہ مستی اور سرور موجود نہیں ہے۔

​تشریح:

آخری اشعار میں شاعر ایک حقیقت پسندانہ افسردگی کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کائنات کی ہر چیز کی ایک "مست مئی" کا وقت ہوتا ہے۔ جب وہ وقت گزر جاتا ہے، تو ساز وہی رہتے ہیں مگر ان کی تاثیر بدل جاتی ہے۔ یہ انسان اور کائنات کی تمام مخلوقات کی اس مشترکہ تقدیر کا بیان ہے جہاں عروج کے بعد زوال اور مستی کے بعد خاموشی مقدر ہے۔

​حاصلِ بحث:

​غنی خان کی یہ نظم ہمیں سکھاتی ہے کہ چونکہ ہم اس کائناتی نظام کا حصہ ہیں جہاں ہر مخلوق فنا ہونے والی ہے، اس لیے ہمیں اپنی زندگی کو اتنے وقار اور مقصدیت کے ساتھ جینا چاہیے کہ موت ہمیں شکست نہ دے سکے، بلکہ ہم مسکراتے ہوئے اسے گلے لگا لیں۔

Comments

Popular posts from this blog

غنی حان کی شاعری : فقر اور روحانی سر شاعی کی روشنی میں

غنی حان کی ذندگی : جدوجہد تعلیم شاعری اور فکری سفر

Ghani Khan's Life:Struggle, Eduction ,Poetry And Intellectual Journey